صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۷ - تجارت میں قسم کھانا
تجارت میں قسم کھانا: سامان بکے مگر برکت نہ رہے
صحیح بخاری : ۲۰۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْحَلِفُ مُنَفِّقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْبَرَكَةِ " .
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (سامان بیچتے وقت دکاندار کے) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تجارت میں قسم کھانے سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم سامان کو بیچ دیتی ہے، لیکن برکت کو مٹا دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دکاندار کبھی قسم کھا کر خریدار کو قائل کر سکتا ہے اور چیز جلدی بک بھی سکتی ہے، لیکن یہ طریقہ برکت کے لیے نقصان دہ ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تجارت کا معیار قسمیں نہیں، بلکہ سچائی اور صاف بات ہونی چاہیے۔ ہر بات پر قسم اٹھانا، خاص طور پر مال بیچنے کے لیے، اچھا رویہ نہیں۔ مسلمان تاجر کو چاہیے کہ اپنے سامان کی حقیقت بتائے، قیمت واضح کرے اور اعتماد کے ساتھ سودا کرے۔ برکت والی تجارت جھوٹی یا غیر ضروری قسموں سے نہیں بنتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سامان بیچنے کے لیے قسموں کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔
- قسم سے سودا ہو سکتا ہے مگر برکت کو نقصان پہنچتا ہے۔
- تجارت میں اعتماد اور سچائی بہتر طریقہ ہے۔
- خریدار کو قائل کرنے کے لیے غیر ضروری قسم مناسب نہیں۔
