صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۰ - سونے چاندی کی نقد خرید و فروخت
سونے چاندی کی تجارت: نقد لین دین کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَا : كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ " .
ابوالمنہال روایت:
میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا۔انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ (لین دین) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوالمنہال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سونے چاندی کی تجارت کرتے تھے۔ انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اور دوسری سند میں براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما دونوں سے سوال کا ذکر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تاجر تھے، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کی تجارت یعنی صرف کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر ادھار ہو تو درست نہیں۔ یہ حدیث سونا چاندی، صرافہ، نقد لین دین، اور تجارت کے شرعی اصول پر واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے چاندی کے لین دین میں نقد معاملہ بیان کیا گیا۔
- ادھار صورت کو حدیث میں درست نہیں کہا گیا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم تجارت کے مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔
- کاروبار میں دینی رہنمائی لینا ضروری ہے۔
