صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۰ - قرض کی امانت اور لکڑی کا واقعہ
قرض کی امانت: لکڑی میں مال اور خط ملنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۳۰
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، فَخَرَجَ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا ، فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ذکر کیا۔ پھر پوری حدیث بیان کی (جو اس سے پہلے گزر چکی ہے) کہ (قرض دینے والا) باہر یہ دیکھنے کے لیے نکلا کہ ممکن ہے کوئی جہاز اس کا روپیہ لے کر آیا ہو۔ (دریا کے کنارے پر جب وہ پہنچا) تو اسے ایک لکڑی ملی جسے اس نے اپنے گھر کے ایندھن کے لیے اٹھا لیا۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں روپیہ اور خط پایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے واقعے کا آخری حصہ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا کہ قرض دینے والا اس خیال سے باہر نکلا کہ شاید کوئی جہاز اس کا مال لے کر آیا ہو۔ دریا کے کنارے اسے ایک لکڑی ملی، جسے وہ اپنے گھر کے ایندھن کے لیے لے آیا۔ جب اس نے لکڑی کو چیرا تو اس کے اندر مال اور خط ملا۔ اس روایت میں قرض کی امانت، حق کی ادائیگی اور مال کے مالک تک پہنچنے کا پہلو سامنے آتا ہے۔ چونکہ یہاں پوری حدیث کا صرف ایک حصہ نقل ہوا ہے، اس لیے بات اسی حد تک رکھنی چاہیے کہ مال اور خط لکڑی کے اندر سے ملے، اور قرض دینے والا اسے پا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کے معاملے میں امانت کا خیال بہت اہم ہے۔
- قرض دینے والا اپنا مال آنے کی امید سے باہر نکلا۔
- مال اور خط لکڑی کے اندر سے ملے۔
- روایت کا یہی حصہ بیان ہوا ہے، اس سے زائد بات یقینی انداز میں نہ کہی جائے۔
