صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۷ - قرض لینے کی نیت کا اثر
قرض ادا کرنے کی نیت: قرض کی حدیث کا اہم سبق
صحیح بخاری : ۲۳۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی لوگوں کا مال قرض کے طور پر ادا کرنے کی نیت سے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا اور جو کوئی نہ دینے کے لیے لے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو تباہ کر دے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرض کی نیت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کا مال قرض کے طور پر اس نیت سے لیتا ہے کہ اسے ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے ادا کرے گا۔ اور جو شخص نہ دینے یا مال ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے تباہ کر دے گا۔ اس حدیث میں قرض کو صرف رقم کا معاملہ نہیں بتایا گیا، بلکہ نیت کا معاملہ بھی بتایا گیا ہے۔ قرض لینا کبھی ضرورت بن سکتا ہے، لیکن اسے واپس کرنے کی سچی نیت ساتھ ہونی چاہیے۔ حدیث قرض لینے والے کے دل کو بھی دیکھنے کی دعوت دیتی ہے: کیا وہ حق ادا کرنا چاہتا ہے یا دوسرے کا مال ضائع کرنا چاہتا ہے؟
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض لیتے وقت واپس کرنے کی سچی نیت ضروری ہے۔
- لوگوں کا مال ضائع کرنے کی نیت سخت خطرناک بات ہے۔
- قرض صرف مالی معاملہ نہیں، نیت اور امانت کا معاملہ بھی ہے۔
- جو حق ادا کرنا چاہتا ہے، حدیث میں اس کے لیے اللہ کی مدد کا ذکر آیا ہے۔
