صحیح بخاری حدیث ۲۲۹۸ - مقروض میت کا قرض اور وارثوں کا حق
مقروض میت کی حدیث: قرض میرے ذمے اور مال وارثوں کا
صحیح بخاری : ۲۲۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۹۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ ، هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا ؟ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً صَلَّى ، وَإِلَّا ، قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَالَ : أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسی میت کو لایا جاتا جس پر کسی کا قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ کیا اس نے اپنے قرض کے ادا کرنے کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے؟ پھر اگر کوئی آپ کو بتا دیتا کہ ہاں اتنا مال ہے جس سے قرض ادا ہو سکتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز پڑھاتے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں ہی سے فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ مستحق ہوں۔ اس لیے اب جو بھی مسلمان وفات پا جائے اور وہ مقروض رہا ہو تو اس کا قرض ادا کرنا میرے ذمے ہے اور جو مسلمان مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۹۸ کا خلاصہ
یہ حدیث قرض، نماز جنازہ اور وراثت کے بارے میں بہت اہم بیان رکھتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ایسی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ کیا اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے۔ اگر مال نہ ہوتا تو مسلمانوں سے فرماتے کہ اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مومنوں کا خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں، جو مسلمان قرض چھوڑ کر فوت ہو اس کا قرض میرے ذمے ہے، اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ اس میں قرض کی ادائیگی اور وارثوں کے حق دونوں کی حفاظت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کے قرض کی ادائیگی کا معاملہ بہت اہم ہے۔
- اگر میت مال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی دیکھی جاتی ہے۔
- فتوحات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض مومن کا قرض اپنے ذمے لیا۔
- جو مال میت چھوڑے وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔
