صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۱ - صدقہ کے مال سے احتیاط

صدقہ کی کھجور: حلال و حرام میں احتیاط کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۳۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا " . وَقَالَ يَحْيَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَقَالَ زَائِدَةُ : عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راستے میں ایک کھجور پر نظر پڑی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کا ڈر نہ ہوتا کہ صدقہ کی ہے تو میں خود اسے کھا لیتا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت باریک احتیاط بیان ہوئی ہے۔ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس روایت میں لقطہ، صدقہ اور احتیاط تینوں پہلو موجود ہیں۔ کھجور چھوٹی چیز تھی، مگر معاملہ صدقہ کا ہو سکتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے رکے رہنے کی بات فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں شبہ ہو کہ یہ صدقہ کا مال ہے، تو احتیاط بہتر ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہی ہے کہ معمولی چیز میں بھی دین کا خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھوٹی چیز ہو تب بھی صدقہ کے شبہ میں احتیاط کی گئی۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کھانے سے رکنے کی وجہ بیان فرمائی۔
  • صدقہ کے مال کے بارے میں ادب اور احتیاط ضروری ہے۔
  • حدیث میں صرف شبہ کی بنا پر احتیاط کا ذکر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں