صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۲ - صدقہ کے شبہ سے بچنا
صدقہ کے شبہ سے بچنا: بستر پر پڑی کھجور کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي ، فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ، ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے گھر جاتا ہوں، وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے۔ میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں۔ لیکن پھر یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں صدقہ کی کھجور نہ ہو۔ تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احتیاط کو نہایت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے گھر جاتا ہوں تو اپنے بستر پر کھجور پڑی ہوئی پاتا ہوں۔ میں اسے کھانے کے لیے اٹھاتا ہوں، پھر ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ کی کھجور نہ ہو، تو اسے پھینک دیتا ہوں۔ یہاں مال بہت کم ہے، صرف ایک کھجور، مگر مسئلہ صدقہ کے شبہ کا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ یہ حدیث صدقہ کے مال، شبہ سے بچنے اور حلال کھانے میں احتیاط کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ عمل کے ذریعے سادہ سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کے شبہ میں ایک کھجور بھی چھوڑ دی گئی۔
- حلال کھانے میں احتیاط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتی ہے۔
- شبہ ہو تو آدمی احتیاط اختیار کر سکتا ہے۔
- حدیث میں بستر پر پڑی کھجور کا خاص واقعہ بیان ہے۔
