صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۳ - حرم مکہ کی حرمت
حرم مکہ کی حدیث: درخت، شکار اور لقطہ کا ادب
صحیح بخاری : ۲۴۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۳۳
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ؟ فَقَالَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مکہ کے درخت نہ کاٹے جائیں، وہاں کے شکار نہ چھیڑے جائیں، اور وہاں کے لقطہٰ کو صرف وہی اٹھائے جو اعلان کرے، اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اذخر کی اجازت دے دیجئیے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی حرمت سے متعلق چند باتیں بیان فرمائیں۔ مکہ کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ چھیڑا جائے، وہاں کی گری ہوئی چیز صرف وہی اٹھائے جو اس کا اعلان کرے، اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے اذخر کے بارے میں اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔ یہ حدیث حرم مکہ، لقطہ حرم، شکار اور گھاس کے مسائل پر صاف بات کرتی ہے۔ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ مکہ عام جگہ نہیں، اس کی خاص حرمت ہے۔ جو چیز گری ہوئی ملے، اسے بھی عام لقطہ کی طرح نہیں بلکہ اعلان کے ارادے سے اٹھایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مکہ کے درخت کاٹنے سے منع کیا گیا۔
- حرم کے شکار کو چھیڑنے سے منع کیا گیا۔
- مکہ کے لقطہ کو اعلان کے لیے اٹھانے کی اجازت بیان ہوئی۔
- اذخر کو استثنا کے طور پر اجازت دی گئی۔
