صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۸ - رحم کا تعلق رحمن سے ہے

رحم کا تعلق رحمن سے: صلہ رحمی کی اہم حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۸

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ اللَّهُ : مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کا تعلق رحمن سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑتا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں صلہ رحمی کی بات بہت گہرے مگر سادہ انداز میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کا تعلق رحمن سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان ذکر ہوا کہ جو رحم کو جوڑے گا، میں اسے جوڑوں گا، اور جو رحم کو توڑے گا، میں اسے توڑ دوں گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داری صرف سماجی معاملہ نہیں، بلکہ بندے کے اللہ سے تعلق پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک، ناراضی کم کرنا، حال پوچھنا اور تعلق باقی رکھنا صلہ رحمی کی عملی شکلیں ہیں۔ حدیث میں اصل زور اسی بات پر ہے کہ رشتہ داری کا حق آسانی سے نظر انداز نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رحم کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت اہم ہے۔
  • رشتہ داری جوڑنے والے کے لیے اللہ سے تعلق کی بشارت ہے۔
  • رشتہ داری توڑنے کو معمولی بات سمجھنا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں