صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۹ - رشتہ داری جوڑنے کی فضیلت
رشتہ داری جوڑنے کی حدیث: صلہ رحمی کا آسان پیغام
صحیح بخاری : ۵۹۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۹
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ " .
عائشہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم (رشتہ داری رحمن سے ملی ہوئی) شاخ ہے جو شخص اس سے ملے میں اس سے ملتا ہوں اور جو اس سے قطع تعلق کرے میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم ایک شاخ ہے؛ جو اسے جوڑے، میں اس سے ملتا ہوں، اور جو اسے کاٹے، میں اس سے قطع تعلق کرتا ہوں۔ اس حدیث میں صلہ رحمی کو بہت سیدھی زبان میں سمجھایا گیا ہے۔ رشتہ داری کو کاٹنا صرف ایک خاندانی جھگڑا نہیں رہتا، بلکہ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہے۔ اسی طرح رشتہ داروں سے تعلق رکھنا، بات چیت باقی رکھنا اور اچھا معاملہ کرنا اللہ کی رحمت کے قریب کرنے والا عمل ہے۔ یہ حدیث ہر مسلمان کو اپنے خاندان کے حقوق یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رشتہ داری جوڑنا اللہ کی رضا کے قریب کرنے والا عمل ہے۔
- قطع تعلقی کو حدیث میں سخت انداز سے بیان کیا گیا ہے۔
- خاندان کے رشتے صرف دنیاوی تعلق نہیں، دینی ذمہ داری بھی ہیں۔
