صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۰ - نسب، ولایت اور صالح ایمان

نسب اور صالح ایمان: رشتہ داری کا درست معیار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۹۰

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ : إِنَّ آلَ أَبِي ، قَالَ عَمْرٌو : فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بَيَاضٌ لَيْسُوا بِأَوْلِيَائِي ، إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ، زَادَ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ لَهُمْ رَحِمٌ أَبُلُّهَا بِبَلَاهَا " ، يَعْنِي أَصِلُهَا بِصِلَتِهَا . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بِبَلَاهَا كَذَا وَقَعَ وَبِبَلَالِهَا أَجْوَدُ وَأَصَحُّ وَبِبَلَاهَا لَا أَعْرِفُ لَهُ وَجْهًا .

عمرو بن العاص روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فلاں کی اولاد (یعنی ابوسفیان بن حکم بن عاص یا ابولہب کی اولاد) یہ عمرو بن عباس نے کہا کہ محمد بن جعفر کی کتاب میں اس وہم پر سفید جگہ خالی تھی (یعنی تحریر نہ تھی) میرے عزیز نہیں ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ ہے) میرا ولی تو اللہ ہے اور میرے عزیز تو ولی ہیں جو مسلمانوں میں نیک اور پرہیزگار ہیں (گو ان سے نسبی رشتہ بھی نہ ہو)۔ عنبسہ بن عبدالواحد نے بیان بن بشر سے، انہوں نے قیس سے، انہوں نے عمرو بن العاص سے اتنا بڑھایا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا البتہ ان سے میرا رشتہ ناطہٰ ہے اگر وہ تر رکھیں گے تو میں بھی تر رکھوں گا یعنی وہ ناطہٰ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۹۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رشتہ داری، ولایت اور صالح ایمان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ صرف نسبی تعلق کسی کو حقیقی ولی نہیں بناتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا ولی اللہ ہے اور صالح مؤمنین ہیں۔ پھر روایت کے آخر میں یہ بھی آیا کہ ان لوگوں سے رشتہ داری ہے، اگر وہ اسے تر رکھیں گے تو میں بھی اسے تر رکھوں گا، یعنی رشتہ جوڑیں گے تو میں بھی جوڑوں گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان، نیکی اور تقویٰ اصل معیار ہیں، لیکن نسبی رشتہ ہو تو اسے بالکل نظر انداز بھی نہیں کیا جاتا۔ یہ حدیث خاندان اور دین کے تعلق کو متوازن انداز میں سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صرف نسبی تعلق حقیقی قربت کا معیار نہیں بنتا۔
  • اللہ اور صالح مؤمنین سے تعلق ایمان کی بنیاد پر ہے۔
  • رشتہ داری کا حق ہو تو اسے اچھے طریقے سے نبھایا جانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں