صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۰ - قرض دار سے نرمی

قرض دار سے نرمی کی حدیث: معاف کرو، امید ہے اللہ معاف کرے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۸۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ ، يَقُولُ لِفَتَاهُ : إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا ، قَالَ : فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں کو اس نے یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی کو مفلس پاؤ (جو میرا قرض دار ہو) تو اسے معاف کر دیا کرو۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف فرما دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۸۰ کا خلاصہ

یہ حدیث قرض، نرمی اور درگزر کے بارے میں ہے۔ ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ جب کسی تنگ دست قرض دار کے پاس جاؤ تو اس سے درگزر کرو، شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر فرمائے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے بخش دیا۔ اس حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے: لوگوں کے ساتھ آسانی کرو، خاص طور پر اس وقت جب وہ واقعی تنگی میں ہوں۔ قرض کی واپسی حق ہے، مگر تنگ دست پر سختی کرنے کے بجائے نرمی، مہلت یا معافی اختیار کرنا اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تنگ دست قرض دار کے ساتھ نرمی کرنی چاہیے۔
  • درگزر کرتے وقت اللہ سے معافی کی امید رکھنا اچھی نیت ہے۔
  • مالی معاملات میں رحم اور آسانی کا پہلو بھی اہم ہے۔
  • لوگوں کی مشکل آسان کرنے والا اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں