صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۸ - تنگ دست مقروض سے درگزر
قرض میں درگزر: تنگ دست کے ساتھ آسان معاملہ
صحیح بخاری : ۲۰۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۸
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا ، قَالَ لِفِتْيَانِهِ : تَجَاوَزُوا عَنْهُ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے (آخرت میں) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے مرنے کے بعد) اس کو بخش دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک تاجر کا ذکر ہے جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ جب وہ کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ اس کی امید یہ تھی کہ شاید اللہ تعالیٰ بھی ہم سے درگزر فرمائے۔ حدیث کے آخر میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ یہ روایت قرض کے معاملے میں نرمی کی بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔ تاجر ہونا صرف منافع کمانا نہیں، لوگوں کے حالات کو سمجھنا بھی ہے۔ جب کوئی واقعی تنگ دست ہو تو اس پر سختی کم کرنا، مہلت دینا یا درگزر کرنا ایک بڑا اخلاقی عمل ہے۔ حدیث اس بات کو نرم لفظوں میں دل تک پہنچاتی ہے کہ جو دوسروں پر آسانی کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تنگ دست مقروض کے ساتھ درگزر کرنا نیکی ہے۔
- تاجر کو لوگوں کے حالات کا خیال رکھنا چاہیے۔
- اللہ سے درگزر کی امید رکھنے والا دوسروں سے بھی نرمی کرے۔
- قرض کے معاملے میں سختی کے بجائے آسانی بہتر ہے۔
