صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۶ - خرید و فروخت میں نرمی
خرید و فروخت میں نرمی: تاجر کے لیے بہترین اخلاق
صحیح بخاری : ۲۰۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا ، إِذَا بَاعَ ، وَإِذَا اشْتَرَى ، وَإِذَا اقْتَضَى " .
جابر بن عبداللہ انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں تجارت کے اخلاق کا بہت خوبصورت اصول بیان ہوا ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت، اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ یہاں صرف بیچنے والے کی بات نہیں، خریدار اور قرض یا حق کا تقاضا کرنے والے کی بات بھی ہے۔ تجارت میں سخت لہجہ، جھگڑا اور بے جا دباؤ لوگوں کے دل خراب کر دیتے ہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت میں نرمی بھی دینی اخلاق کا حصہ ہے۔ حق لینا منع نہیں، مگر حق لیتے ہوئے آسانی، شائستگی اور نرم معاملہ پسندیدہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیچتے وقت نرمی اختیار کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- خریدتے وقت بھی اچھا لہجہ رکھنا چاہیے۔
- حق کا تقاضا کرتے وقت سختی کے بجائے آسانی بہتر ہے۔
- تجارت میں اچھا اخلاق رحمت کا سبب بن سکتا ہے۔
