صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۵ - رسی لے کر لکڑی لانا بہتر ہے
رسی اور لکڑی والی حدیث: مانگنے کے بجائے خود محنت
صحیح بخاری : ۲۰۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ " .
زبیر بن عوام روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت اور خود کفالت کا سبق دیا۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھالے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے۔ متن میں بات بہت صاف ہے۔ انسان کے پاس اگر کام کرنے کی طاقت ہو تو وہ چھوٹے کام کو بھی حقیر نہ سمجھے۔ رسی لے جانا، لکڑی باندھنا، اور اسے لا کر فائدہ اٹھانا محنت کی علامت ہے۔ اس کے مقابلے میں لوگوں کے سامنے سوال کرتے پھرنا عزت نفس کو کمزور کر سکتا ہے۔ حدیث ہمیں عملی روزگار، محنت اور وقار کی طرف بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹا کام بھی مانگنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔
- انسان کو اپنی طاقت کے مطابق روزی کی کوشش کرنی چاہیے۔
- محنت کرنے میں شرم نہیں ہونی چاہیے۔
- غیر ضروری سوال کرنے سے بچنا بہتر ہے۔
