صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۴ - لکڑیاں اٹھانا سوال کرنے سے بہتر

لوگوں سے مانگنے کے بجائے محنت: لکڑی اٹھانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں خود داری اور محنت کا بہت سادہ مگر مضبوط سبق ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لانا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے، چاہے وہ اسے دے یا نہ دے۔ یہاں مقصد محنت کی قدر بتانا ہے۔ لکڑیاں جمع کرنا بظاہر سخت اور معمولی کام لگ سکتا ہے، لیکن حدیث نے اسے سوال کرنے سے بہتر بتایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی طاقت کے مطابق محنت کرنی چاہیے۔ بلا ضرورت مانگنے سے بچنا اور خود کمانے کی کوشش کرنا عزت نفس کے قریب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنی محنت سے کمانا لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔
  • معمولی محنت بھی عزت والی ہو سکتی ہے۔
  • سوال کرنے سے پہلے اپنی کوشش کرنی چاہیے۔
  • رزق کے لیے محنت خود داری کا ذریعہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں