صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۲ - اپنے ہاتھ کی کمائی بہترین روزی

اپنے ہاتھ کی کمائی: بہترین روزی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۲

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ " .

مقدام روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع حلال کمائی اور اپنی محنت سے روزی کمانا ہے۔ مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی جو اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ پھر آپ نے داؤد علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ وہ بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔ یہ حدیث کام، محنت اور خود داری کی بڑی خوبصورت تعلیم دیتی ہے۔ اپنے ہاتھ کی کمائی میں عزت ہے، ذمہ داری ہے، اور دوسروں پر غیر ضروری بوجھ نہ بننے کا سبق بھی ہے۔ حدیث کسی خاص پیشے کو بیان نہیں کرتی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی محنت سے کھائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنے ہاتھ سے کما کر کھانا بہترین روزی بتایا گیا ہے۔
  • داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کرتے تھے۔
  • محنت کرنا عزت والی بات ہے۔
  • روزی کے معاملے میں خود داری اچھی صفت ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں