صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۳ - داؤد علیہ السلام کی ہاتھ کی کمائی
داؤد علیہ السلام اور اپنے ہاتھ کی کمائی
صحیح بخاری : ۲۰۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں داؤد علیہ السلام کی زندگی کا ایک خاص پہلو بتایا گیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: داؤد نبی علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔ یہ مختصر حدیث اپنے اندر بہت واضح پیغام رکھتی ہے۔ نبی ہونے کے باوجود داؤد علیہ السلام نے محنت کو اختیار کیا اور اپنی روزی اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل کی۔ اس سے محنت کی عزت معلوم ہوتی ہے۔ روزی کمانا صرف دنیاوی کام نہیں، جب حلال طریقے سے ہو تو انسان کی خود داری بھی محفوظ رہتی ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کام کرنا کم تر بات نہیں، بلکہ انبیاء کا طریقہ بھی رہا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔
- محنت کرنا عزت اور خود داری کا ذریعہ ہے۔
- حلال روزی کمانا انبیاء کے عمل سے ثابت ہے۔
- کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
