صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۱ - خوف خدا اور رحمت

خوف خدا کی حدیث: اللہ کی رحمت کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۱

حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَكَرَ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ سَلَفَ أَوْ قَبْلَكُمْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا يَعْنِي أَعْطَاهُ ، قَالَ : فَلَمَّا حُضِرَ ، قَالَ لِبَنِيهِ : أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ ، قَالُوا : خَيْرَ أَبٍ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا ، فَسَّرَهَا قَتَادَةُ : لَمْ يَدَّخِرْ وَإِنْ يَقْدَمْ عَلَى اللَّهِ يُعَذِّبْهُ ، فَانْظُرُوا فَإِذَا مُتُّ ، فَأَحْرِقُونِي حَتَّى إِذَا صِرْتُ فَحْمًا ، فَاسْحَقُونِي أَوْ قَالَ : فَاسْهَكُونِي ، ثُمَّ إِذَا كَانَ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَذْرُونِي فِيهَا ، فَأَخَذَ مَوَاثِيقَهُمْ عَلَى ذَلِكَ وَرَبِّي ، فَفَعَلُوا ، فَقَالَ اللَّهُ : كُنْ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْ عَبْدِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ، قَالَ : مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقٌ مِنْكَ فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللَّهُ " ، فَحَدَّثْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ : فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا حَدَّثَ ، وَقَالَ مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطا فرمائی تھی۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ۔پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے۔ قتادہ نے «لم يبتئر» کی تفسیر «لم يدخر» کہ نہیں جمع کی، سے کی ہے۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا (اس نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ) دیکھو، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا۔اس نے اپنے لڑکوں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہو جا۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا۔ پھر فرمایا، میرے بندے! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا۔میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ ”مجھے دریا میں بہا دینا“ یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ سے سنا، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں پچھلی امت کے ایک شخص کا واقعہ ہے جسے اللہ نے مال اور اولاد دی تھی۔ جب موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین باپ۔ پھر اس نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی جمع نہیں کی، اور اگر اللہ کے حضور پیش ہوا تو عذاب ہو گا۔ اس نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا دیا جائے، پیس دیا جائے، اور تیز ہوا کے دن اڑا دیا جائے۔ بیٹوں نے ایسا کیا۔ پھر اللہ نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ یہ کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ حدیث میں آیا کہ اللہ نے اس پر رحم فرمایا۔ یہ واقعہ خوف خدا اور اللہ کی رحمت کو ساتھ دکھاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنے اعمال کا حساب سوچنا انسان کو اللہ سے ڈراتا ہے۔
  • اللہ بندے کے خوف اور دل کے حال کو جانتا ہے۔
  • اس واقعے میں اللہ کی رحمت کا ذکر صاف طور پر آیا ہے۔
  • مال اور اولاد کے باوجود انسان کو آخرت کی فکر رکھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں