صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۸ - اوپر والا ہاتھ اور سوال سے بچنا

اوپر والا ہاتھ: دینے کی عادت اور مانگنے سے بچنے کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۲۸

وَعَنْ وُهَيْبٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا .

ابوہریرہ روایت:

اور وہیب نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی بیان فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۲۸ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت کے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں اوپر والے ہاتھ کو نیچے والے ہاتھ سے بہتر بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ دینے والا بنے، بلا ضرورت سوال کرنے والا نہ بنے۔ اسی مضمون میں یہ بات بھی آتی ہے کہ پہلے اپنے زیر کفالت لوگوں کا خیال کیا جائے اور صدقہ ایسا ہو جس کے بعد آدمی اپنی ضروری حالت برقرار رکھ سکے۔ یہ حدیث ہمیں خودداری، سخاوت اور ذمہ داری کا راستہ دکھاتی ہے۔ صدقہ صرف دوسروں کو مال دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں کا حق پہچاننے، سوال سے بچنے اور اللہ پر اعتماد رکھنے کا نام بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کو دینے والا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • بلا ضرورت سوال سے بچنا پسندیدہ عمل ہے۔
  • صدقہ میں اپنے ذمہ لوگوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • سخاوت اور خودداری ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں