صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۱ - خودداری اور حلال کمائی
خودداری کی حدیث: حلال محنت سے عزت محفوظ رکھنا
صحیح بخاری : ۱۴۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۷۱
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : "لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ " .
زبیر بن عوام روایت:
تم میں سے کوئی بھی اگر (ضرورت مند ہو تو) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے۔ اور اسے بیچے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے تو یہ اس سے اچھا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے ‘ اسے وہ دیں یا نہ دیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت عام مگر طاقتور مثال دی۔ آدمی اپنی رسی لے، لکڑیوں کا گٹھا باندھے، اسے پیٹھ پر اٹھائے، پھر بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرے؛ یہ اس کے لیے لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ اس طرح اللہ اس کے چہرے کو محفوظ رکھتا ہے، یعنی اسے سوال کی ذلت سے بچاتا ہے۔ یہاں بات کسی خاص پیشے کی نہیں، بلکہ اصول کی ہے کہ جائز محنت میں عزت ہے۔ اگر کام سخت بھی ہو تو وہ بلا ضرورت ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے۔ یہ حدیث خاص طور پر حلال کمائی، خودداری اور معاشی کوشش کی اہمیت سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال محنت انسان کی عزت کو محفوظ رکھتی ہے۔
- مشقت والا جائز کام مانگنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔
- لوگوں سے سوال کرنے سے پہلے اپنی کوشش کرنی چاہیے۔
- رزق کے لیے محنت کرنا دین کی تعلیم سے دور نہیں۔
