صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۴ - کثرت سے سوال کی وعید

لوگوں سے سوال کرنے کی ممانعت: مسلسل مانگنے کی وعید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۷۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ اس کے چہرے پر ذرا بھی گوشت نہ ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے بار بار ہاتھ پھیلانے کے انجام سے خبردار فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔ حدیث کا لہجہ بہت سخت ہے، اس لیے اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہاں مقصد ضرورت مند کی توہین نہیں، بلکہ بلا ضرورت یا عادت بنا کر سوال کرنے سے روکنا ہے۔ پچھلی اور اگلی روایات بھی یہی بتاتی ہیں کہ انسان کو جہاں تک ہو سکے محنت، صبر اور بے نیازی اختیار کرنی چاہیے۔ ضرورت الگ چیز ہے، مگر سوال کو عادت بنانا دل اور عزت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں سے مسلسل مانگنے کی سخت وعید آئی ہے۔
  • سوال کو عادت بنانا خطرناک رویہ ہے۔
  • آدمی کو جہاں تک ہو سکے خودداری اختیار کرنی چاہیے۔
  • قیامت کے انجام کو یاد رکھنا عمل کی اصلاح میں مدد دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں