صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۰ - حلال کمائی اور صدقہ
حلال کمائی کی فضیلت: کماؤ، کھاؤ اور صدقہ بھی کرو
صحیح بخاری : ۱۴۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۸۰
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ ثُمَّ يَغْدُوَ , أَحْسِبُهُ قَالَ : إِلَى الْجَبَلِ ، فَيَحْتَطِبَ فَيَبِيعَ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ : أَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ .
ابوہریرہ روایت:
اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر (میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا) پہاڑوں میں چلا جائے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں فروخت کرے۔ اس سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کی ایک اور مثال دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے، لکڑیاں جمع کرے، انہیں بیچے، پھر اس سے خود بھی کھائے اور صدقہ بھی کرے؛ یہ اس کے لیے لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے۔ اس حدیث میں صرف مانگنے سے بچنے کی بات نہیں، بلکہ ایک خوبصورت ترتیب بھی ہے: آدمی محنت کرے، اپنی ضرورت پوری کرے، اور پھر دوسروں کی مدد بھی کرے۔ جائز محنت اگرچہ سادہ ہو، مگر اس میں عزت، رزق اور صدقہ تینوں جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کم آمدنی والا شخص بھی اپنی محنت سے خیر کا راستہ بنا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال محنت سے اپنی ضرورت پوری کرنا بہتر ہے۔
- محنت کی کمائی سے صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
- لوگوں سے مانگنے کے بجائے کوشش کرنا پسندیدہ ہے۔
- چھوٹی کمائی بھی نیکی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
