صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۹ - خاموش مسکین
خاموش مسکین کی پہچان: صدقہ کے اصل حق دار
صحیح بخاری : ۱۴۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۷۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ " .
ابوہریرہ روایت:
مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین کے بارے میں ہماری عام سوچ درست فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا رہے اور اسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں مل جائیں۔ اصل مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ بے نیاز ہو جائے، مگر لوگ اسے پہچانتے بھی نہیں کہ اسے صدقہ دے دیں، اور وہ خود بھی کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال نہیں کرتا۔ یہ حدیث صدقہ دینے والوں کو زیادہ ذمہ دار بناتی ہے۔ صرف آواز لگانے والوں پر نظر نہ ہو، بلکہ ایسے ضرورت مند بھی تلاش کیے جائیں جو عزت کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل مسکین وہ بھی ہو سکتا ہے جو مانگتا نہیں۔
- صدقہ دیتے وقت تحقیق اور خیال ضروری ہے۔
- خاموش ضرورت مندوں کی مدد کرنا اہم ہے۔
- ہر محتاج اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا۔
