صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۶ - اصل مسکین کون ہے
مسکین کی پہچان: خاموش ضرورت مند کو کیسے سمجھیں
صحیح بخاری : ۱۴۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۷۶
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةَ وَالْأُكْلَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى وَيَسْتَحْيِي أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا " .
محمد بن زیاد روایت:
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرائیں۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں۔ لیکن اسے سوال سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا (مسکین وہ جو کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین کی پہچان سمجھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرا دیں۔ اصل مسکین وہ ہے جس کے پاس کافی مال نہیں، مگر اسے سوال سے شرم آتی ہے، یا وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا۔ یہ حدیث ہمیں ضرورت مندوں کو پہچاننے کا ایک نرم طریقہ بتاتی ہے۔ ہر محتاج آدمی آواز نہیں لگاتا، ہر غریب ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ کچھ لوگ اپنی عزت بچاتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی خبر لینا صدقہ اور زکوٰۃ دینے والوں کے لیے بہت ضروری ہے، تاکہ مدد ان تک پہنچے جو مانگنے سے بچتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل مسکین کبھی خاموش اور باعزت بھی ہو سکتا ہے۔
- ہر مانگنے والا ہی سب سے زیادہ ضرورت مند نہیں ہوتا۔
- صدقہ دیتے وقت خاموش ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- سوال سے شرم کرنا خودداری کی نشانی ہو سکتی ہے۔
