صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۲ - سوال سے بچنے اور محنت کی فضیلت
سوال نہ کرنے کی حدیث: حلال محنت بہتر ہے
صحیح مسلم : ۲۴۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۰۲
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ ، فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی لکڑی کا گٹھا لادے اپنی پیٹھ پر اور اس کو بیچے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے سوال کرنے سے کسی شخص سے کہ معلوم نہیں کہ وہ دے یا نہ دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوال نہ کرنے اور حلال محنت کی بڑی صاف تعلیم دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا اٹھائے، اسے بیچے، تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے سوال کرے۔ جس سے مانگا جائے وہ دے بھی سکتا ہے اور منع بھی کر سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی طاقت کے مطابق محنت کرنی چاہیے، چاہے کام سادہ ہی کیوں نہ ہو۔ حلال کمائی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رزق کے لیے کوشش کرنا عزت کا راستہ ہے۔ اس میں سوال کرنے والے کو شرمندہ کرنے کی بات نہیں، بلکہ خودداری سکھائی گئی ہے۔ اگر آدمی کام کر سکتا ہے تو بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی محنت سے کمائے اور لوگوں کے دروازوں پر امید نہ لگائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو شخص کام کر سکتا ہو اسے محنت کو ترجیح دینی چاہیے۔
- لوگوں سے مانگنے میں دے دینے یا روک دینے دونوں کا امکان رہتا ہے۔
- رزق حلال کے لیے سادہ کام بھی عزت والا ہو سکتا ہے۔
