صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۱ - حلال محنت اور خودداری
حلال محنت کی حدیث: اپنی کمائی میں عزت
صحیح مسلم : ۲۴۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۰۱
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ .
قیس روایت:
ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر کوئی صبح کو جائے اور پیٹھ پر لکڑیاں لادے اور بیچے۔“ آگے وہی روایت کی جو اوپر گزری ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۰۱ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع حلال محنت اور خودداری ہے۔ حدیث میں لکڑیاں اٹھا کر بیچنے کی مثال آئی ہے، یعنی انسان اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے معمولی سا کام بھی کر لے تو یہ اس کی عزت کے لیے بہتر راستہ ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھے بلکہ جو کام آسانی سے ملے، اسے محنت سمجھ کر کرے۔ حلال روزی کی تلاش میں صبح نکلنا، اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھانا اور پھر اسے بیچنا ایک صاف پیغام دیتا ہے کہ رزق حلال محنت سے بھی آتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عزت کام کی شکل میں نہیں، نیت اور محنت میں ہے۔ اس لیے حلال کمائی، خودداری اور سوال سے بچنے کی سوچ مسلمان کے دل میں مضبوط رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی ضرورت کے لیے حلال محنت کرنا پسندیدہ بات ہے۔
- معمولی کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے جب وہ جائز ہو۔
- خودداری کے ساتھ کمانا انسان کو لوگوں کے سامنے محتاج ہونے سے بچاتا ہے۔
