صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۵ - نکاح، نظر کی حفاظت اور روزہ
نکاح نہ ہو سکے تو روزہ نفس پر قابو کا ذریعہ ہے
صحیح بخاری : ۱۹۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۰۵
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی صاحب طاقت ہو تو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے محفوظ رکھنے کا یہ ذریعہ ہے اور کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نوجوانوں کے لیے صاف اور عملی رہنمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے، کیونکہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اور جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو، اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کو کم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس حدیث میں نکاح کو پاکیزہ زندگی کا راستہ بتایا گیا ہے، اور روزے کو ایسے شخص کے لیے مدد بتایا گیا ہے جو ابھی نکاح نہیں کر سکتا۔ یہ تعلیم جذبات کو دبانے کے بجائے انہیں صحیح رخ دینے کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استطاعت ہو تو نکاح پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
- نکاح نظر کی حفاظت میں مدد دیتا ہے۔
- جو نکاح نہ کر سکے وہ روزے کے ذریعے ضبط سیکھے۔
- اسلام انسانی ضرورتوں کے لیے عملی رہنمائی دیتا ہے۔
