صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۷ - روزہ اور جھوٹ سے بچنے کی حدیث

روزہ اور جھوٹ: کھانا پینا چھوڑنے سے آگے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " ، قَالَ أَحْمَدُ : أَفْهَمَنِي رَجُلٌ إِسْنَادَهُ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بات کرنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ احمد بن یونس نے کہا یہ حدیث میں نے سنی تو تھی مگر میں اس کی سند بھول گیا تھا جو مجھ کو ایک شخص (ابن ابی ذئب) نے بتلا دی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزے کی اصل روح بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی بات، جھوٹ پر عمل اور جہالت کی باتیں نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں۔ روزہ انسان کی زبان، عمل اور رویے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولتا رہے، فریب کرتا رہے یا جاہلانہ انداز اختیار کرے تو وہ روزے کے مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث روزہ دار کو یاد دلاتی ہے کہ رمضان میں زبان کی حفاظت، سچائی اور سنجیدہ رویہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کھانے پینے سے رکنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزے میں جھوٹ بولنے سے بچنا چاہیے۔
  • روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں۔
  • فریب اور غلط عمل روزے کی روح کے خلاف ہیں۔
  • روزہ دار کو اپنی زبان اور رویہ بھی درست رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں