صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۶ - فحش گوئی سے بچنے کی حدیث

فحش گوئی سے بچنا: پاکیزہ زبان کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبابا ، كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ : " مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہیں تھے، نہ آپ لعنت ملامت کرنے والے تھے اور نہ گالی دیتے تھے، آپ کو بہت غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے، اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام زبان کی حفاظت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فحش گو نہیں تھے، لعنت کرنے والے نہیں تھے اور گالی نہیں دیتے تھے۔ یعنی نبی صلى الله عليه وسلم کی عام گفتگو بھی پاکیزہ تھی اور غصے کے وقت بھی آپ کی زبان حد سے نہیں بڑھتی تھی۔ جب کسی بات پر ناراضی ہوتی تو آپ صرف اتنا کہتے: اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدزبانی، گالی گلوچ اور لعنت ملامت مسلمان کے اخلاق کے خلاف ہیں۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ غصہ آ بھی جائے تو الفاظ سنبھال کر بولنے چاہئیں۔ اچھی زبان صرف عبادت گاہ میں نہیں، گھر، بازار، کام اور عام گفتگو میں بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلمان کو فحش گوئی اور گالی گلوچ سے بچنا چاہیے۔
  • غصے میں بھی زبان کو قابو میں رکھنا نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ ہے۔
  • کسی پر لعنت یا سخت بدزبانی کرنا اچھی عادت نہیں۔
  • نرم اور پاکیزہ الفاظ انسان کے اخلاق کو بہتر بناتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں