صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۵ - کافر یا فاسق کہنے کی احتیاط
کافر کہنے کی حدیث: زبان کے فیصلوں میں احتیاط
صحیح بخاری : ۶۰۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۴۵
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ " .
ابوذر غفاری روایت:
´ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تکفیر میں احتیاط ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر کوئی شخص کسی کو فاسق یا کافر کہے اور وہ حقیقت میں ایسا نہ ہو تو یہ بات کہنے والے پر لوٹ آتی ہے۔ کافر کہنے کی حدیث بہت سنجیدہ تنبیہ ہے۔ کسی مسلمان کے بارے میں بڑے الفاظ بولنا آسان ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ اس کا نقصان خود کہنے والے کی طرف پلٹ سکتا ہے۔ اس لیے غصے، بحث، فرقہ وارانہ ضد یا ذاتی دشمنی میں کسی پر کفر یا فسق کا حکم لگانے سے بچنا چاہیے۔ اس حدیث کا سیدھا سبق زبان کو قابو میں رکھنا اور بڑے دعووں سے پہلے خوف کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کو کافر یا فاسق کہنے میں سخت احتیاط لازم ہے۔
- اگر الزام درست نہ ہو تو وبال کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے۔
- غصے یا دشمنی میں بڑے دینی الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہییں۔
