صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۴ - بھائی کو کافر کہنے کی وعید
کسی بھائی کو کافر کہنا: سخت حدیثی تنبیہ
صحیح بخاری : ۶۱۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۰۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے کسی بھائی کو کہا: اے کافر، تو ان دونوں میں سے ایک اس کا مستحق ہو گیا۔ یہ الفاظ بہت مختصر ہیں مگر معنی کے لحاظ سے نہایت سخت ہیں۔ مسلمان معاشرے میں زبان کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے، خاص طور پر جب بات ایمان اور کفر جیسے بڑے معاملے کی ہو۔ کسی اختلاف، غصے یا غلط فہمی میں دوسرے مسلمان کو کافر کہہ دینا بہت خطرناک ہے۔ یہ حدیث تکفیر کی جلد بازی سے روکتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ ایسے الفاظ واپس کہنے والے پر بھی آ سکتے ہیں۔ اس روایت سے یہی سبق ملتا ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے بارے میں سخت دینی حکم لگانے سے پہلے بہت ڈرے اور زبان کو روکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کافر کہنے کا لفظ معمولی نہیں، بہت سنگین ہے۔
- غصے میں دینی حکم لگانے سے بچنا چاہیے۔
- زبان کی سختی کہنے والے کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
- مسلمان بھائی کے بارے میں احتیاط لازم ہے۔
