صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۳ - کسی مسلمان کو کافر کہنا
مسلمان کو کافر کہنے کی حدیث: زبان کی خطرناک غلطی
صحیح بخاری : ۶۱۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا " ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بہت سخت تنبیہ فرمائی کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہتا ہے: اے کافر، تو یہ بات دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹتی ہے۔ یہ حدیث تکفیر، زبان کی حفاظت اور مسلمان بھائی کے بارے میں احتیاط کا بڑا سبق دیتی ہے۔ کسی کو کافر کہنا معمولی گالی یا جذباتی جملہ نہیں ہے۔ روایت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ایسا لفظ بہت خطرناک ہے اور کہنے والے کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنی زبان کو قابو میں رکھے، خاص طور پر ایمان اور کفر جیسے بڑے الفاظ میں جلد بازی نہ کرے۔ یہاں حکم کا دائرہ وہی ہے جو حدیث میں آیا: مسلمان بھائی کو کافر کہنا سخت خطرے کی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان بھائی کو کافر کہنا بہت سنگین بات ہے۔
- ایمان اور کفر کے الفاظ میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔
- زبان کی ایک بات کہنے والے پر بھی واپس آ سکتی ہے۔
- مسلمان کو اپنے بھائی کے بارے میں احتیاط اور نرمی رکھنی چاہیے۔
