صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۲ - نبی صلى الله عليه وسلم کی حیا
حیا کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا باحیا مزاج
صحیح بخاری : ۶۱۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۰۲
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
ابو سعید خدری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۲ کا خلاصہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیا والے تھے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو صحابہ آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے سے سمجھ جاتے تھے۔ یہ حدیث نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی حیا، نرم مزاجی اور باوقار خاموشی کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم حق بات بیان نہیں کرتے تھے، بلکہ یہاں خاص طور پر آپ صلى الله عليه وسلم کے مزاج کی نرمی اور حیا کا ذکر ہے۔ ناگوار چیز پر آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے سے اثر معلوم ہو جاتا تھا۔ حیا کی حدیث کے طور پر یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ شرم و حیا کمزوری نہیں، بلکہ باوقار اخلاق کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم بہت زیادہ حیا والے تھے۔
- ناگوار بات پر آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے سے اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔
- حیا اچھے اخلاق اور وقار کا حصہ ہے۔
- ہر ناپسندیدہ بات پر سخت الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔
