صحیح بخاری حدیث ۲۴ - حیاء ایمان کا حصہ ہے

حیاء ایمان کا حصہ ہے: آسان اردو شرح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حیاء کی قدر بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو زیادہ شرم کرنے پر نصیحت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، کیونکہ حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرم و حیا اگر اچھائی اور پاکیزگی کی طرف لے جا رہی ہو تو یہ کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایمان سے تعلق رکھتی ہے۔ حدیث میں حیاء ایمان سے ہے، حیا کی حدیث، ایمان کا حصہ اور اچھی عادت جیسے الفاظ خاص طور پر اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیاء کو کمزوری سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
  • اچھی حیاء ایمان سے تعلق رکھتی ہے اور انسان کو برائی سے روکتی ہے۔
  • نصیحت کرتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ جس چیز سے روکا جا رہا ہے وہ حقیقت میں غلط ہے یا نہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کی قدر کو صاف الفاظ میں بیان فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں