صحیح بخاری حدیث ۹ - ایمان کی شاخیں اور حیاء
ایمان کی شاخیں: حیاء ایمان کا حصہ ہے
صحیح بخاری : ۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایمان کی شاخوں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں، اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف زبان کے اقرار تک محدود نہیں، بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں۔ حیاء یعنی شرم و لحاظ بھی ایمان سے جڑی ہوئی خوبی ہے۔ یہاں حیاء کو ایمان کی ایک شاخ کہا گیا ہے، اس لیے مسلمان کے کردار میں شرم، پاکیزگی اور اچھے رویے کی قدر ہونی چاہیے۔ حدیث میں ایمان کی تمام شاخوں کی تفصیل نہیں دی گئی، مگر حیاء کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی کئی شاخیں ہیں۔
- حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔
- ایمان کا اثر انسان کے اخلاق پر بھی ہونا چاہیے۔
- شرم و لحاظ کو دینی خوبی کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
