صحیح بخاری حدیث ۱۷ - انصار سے محبت ایمان کی نشانی
انصار سے محبت: ایمان کی نشانی اور نفاق سے بچاؤ
صحیح بخاری : ۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ " .
انس بن مالک روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں انصار رضی اللہ عنہم کے بارے میں بہت واضح بات آئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ انصار وہ لوگ تھے جن سے محبت کو حدیث نے ایمان کی علامت قرار دیا۔ یہاں بات کسی عام پسند یا ناپسند کی نہیں، بلکہ انصار کے مقام اور دین میں ان کی خدمت کے حوالے سے ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت دی، ان کے بارے میں دل صاف رکھنا چاہیے۔ انصار سے محبت ایمان کے اچھے اثرات میں سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے۔
- انصار سے بغض نفاق کی نشانی بتایا گیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں دل صاف رکھنا چاہیے۔
- ایمان کا تعلق بعض دینی محبتوں سے بھی ہے۔
