صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۵ - لعنت، تکفیر اور جھوٹی قسم
مومن پر لعنت اور کفر کی تہمت: سخت حدیثی وعید
صحیح بخاری : ۶۱۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۰۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ " .
ثابت بن ضحاک روایت:
جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹ موٹ قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے، جس کی اس نے قسم کھائی ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کر لی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کئی سنگین باتوں سے خبردار فرمایا۔ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائے، وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسا اس نے کہا۔ جس نے کسی چیز سے خودکشی کی، اسے جہنم میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔ مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے برابر بتایا گیا، اور مومن پر کفر کی تہمت لگانا بھی اس کے قتل کے برابر فرمایا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زبان کی حفاظت، جھوٹی قسم، لعنت اور تکفیر سے بچنا ہے۔ روایت کے الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے مسلمان کو اپنی زبان، قسم، غصے اور الزامات میں بہت محتاط رہنا چاہیے۔ خاص طور پر مومن کے بارے میں لعنت اور کفر کی تہمت عام جملہ نہیں بلکہ سخت وعید کا معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی قسم بہت خطرناک معاملہ ہے۔
- خودکشی کے بارے میں حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔
- مومن پر لعنت کرنا انتہائی سنگین بات ہے۔
- مومن پر کفر کی تہمت لگانا بڑے گناہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔
