صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۴ - مسلمان کو گالی دینا گناہ
مسلمان کو گالی دینا گناہ: زبان کی حفاظت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۴۴
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِباب الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " ، تَابَعَهُ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ غندر نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع زبان کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔ یہ جملہ بہت مختصر ہے مگر اس میں مسلمان کے احترام کی بڑی سخت حفاظت ہے۔ گالی دینا صرف عام بدتمیزی نہیں، حدیث کے الفاظ میں فسق ہے۔ اسی طرح مسلمان سے لڑائی اور قتل و قتال کا معاملہ بہت سنگین بتایا گیا ہے۔ مسلمان کو گالی دینا گناہ والی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف، غصے یا بحث کے وقت زبان کو آزاد نہ چھوڑا جائے۔ زبان سے شروع ہونے والی تلخی ہاتھ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے پہلے قدم ہی پر خود کو روکنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو گالی دینا حدیث کے مطابق فسق ہے۔
- مسلمان سے لڑائی کا معاملہ بہت سنگین ہے۔
- اختلاف کے وقت زبان کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔
