صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۴ - بدگمانی، حسد اور بغض سے بچنے کی حدیث
بدگمانی اور حسد سے بچو: بھائی چارے کی جامع حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۴
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمان معاشرے کے اخلاق کا جامع سبق دیتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے عیب تلاش کرنے، جاسوسی کرنے، حسد کرنے، پیٹھ پیچھے برائی کرنے اور بغض رکھنے سے منع فرمایا۔ آخر میں حکم دیا کہ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ اس حدیث میں تعلقات خراب کرنے والی کئی بیماریوں کا ذکر ہے۔ بدگمانی دل کو خراب کرتی ہے، عیب جوئی رشتوں کو کمزور کرتی ہے، حسد دل میں آگ لگاتا ہے، اور بغض لوگوں کو دور کر دیتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو دوسروں کے بارے میں اچھا گمان، صاف دل اور بھائی چارے والا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگمانی سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ اکثر غلط باتوں تک لے جاتی ہے۔
- لوگوں کے عیب تلاش کرنا اور جاسوسی کرنا منع ہے۔
- حسد، بغض اور پیٹھ پیچھے برائی تعلقات خراب کرتے ہیں۔
- مسلمانوں کو بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔
