صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۵ - تین دن سے زیادہ ناراضی کی ممانعت
تین دن سے زیادہ قطع کلامی نہیں: بھائی چارے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
انس مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے لیے صاف ہدایت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ناراضی ہو سکتی ہے، مگر اسے لمبا کھینچنا درست نہیں۔ حسد، بغض اور قطع تعلقی دلوں میں دوری پیدا کرتے ہیں۔ مسلمان کا راستہ یہ ہے کہ وہ رنجش کم کرے، بھائی چارہ باقی رکھے اور تعلقات کو بلا وجہ خراب نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کو آپس میں بغض اور حسد سے بچنا چاہیے۔
- پیٹھ پیچھے برائی تعلقات کو خراب کرتی ہے۔
- تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑنا جائز نہیں۔
- بھائی چارہ قائم رکھنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔
