صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۶ - بدگمانی، حسد اور بغض سے بچنے کی حدیث
بدگمانی کی حدیث: مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں
صحیح بخاری : ۶۰۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بدگمانی، تجسس، حسد، بغض اور آپس کی دوری سے بچنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی اکثر جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے عیب ڈھونڈنا، چھپی باتیں کریدنا، کسی کے بھاؤ پر بھاؤ بڑھانا، حسد کرنا، بغض رکھنا اور پیٹھ پیچھے برائی کرنا درست رویہ نہیں۔ آسان لفظوں میں یہ حدیث مسلمان بھائی چارہ، اچھا اخلاق اور معاشرتی امن کا سیدھا اصول دیتی ہے۔ اگر دل میں شک آئے تو اسے پھیلانے، ٹٹولنے یا الزام بنانے کے بجائے رک جانا چاہیے۔ حدیث کا آخر یہی ہے کہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگمانی کو بات، الزام یا فیصلہ بنانے سے بچنا چاہیے۔
- دوسروں کے عیب تلاش کرنا اور چھپی باتیں کریدنا منع ہے۔
- حسد، بغض اور غیبت بھائی چارے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
