صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۵ - اطاعت و نافرمانی

غفار، اسلم اور عصیہ: اطاعت کا فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۵

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غفار کو اللہ بخشے اور اسلم کو سلامت رکھے اور عصیہ نے نافرمانی کی اللہ اور اس کے رسول کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں تین باتیں ایک ساتھ آئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غفار کو اللہ بخشے، اسلم کو اللہ سلامت رکھے، اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ یہاں قبیلہ غفار کی فضیلت، قبیلہ اسلم کی سلامتی اور عصیہ کے بارے میں نافرمانی کا بیان ہے۔ اس متن سے ہمیں کوئی لمبی تفصیل نہیں ملتی، اس لیے بات کو مختصر اور واضح رکھنا چاہیے۔ “غفار کو اللہ بخشے” اور “اسلم سالمہا اللہ” اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں، جبکہ “عصیہ نے نافرمانی کی” بھی اس روایت کا لازمی حصہ ہے۔ حدیث کا سادہ پیغام یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل کے بارے میں مختلف کلمات فرمائے، اور ہر کلمہ اپنی جگہ معنی رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غفار کے لیے بخشش کی دعا حدیث میں موجود ہے۔
  • اسلم کے لیے سلامتی کا ذکر الگ طور پر آیا ہے۔
  • عصیہ کے بارے میں نافرمانی کا لفظ متن کا حصہ ہے، اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں