صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۴ - دعا اور اطاعت
نماز میں دعا: غفار کے لیے مغفرت، اسلم کے لیے سلامتی
صحیح مسلم : ۶۴۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۳۴
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ اللَّيْثِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي صَلَاةٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں دعا کی: ”یا اللہ! لعنت کر بنی لحیان پر اور رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر جنہوں نے نافرمانی کی اللہ کی اور اس کے رسول کی اور بخش دیا اللہ نے غفار کو اور اسلم کو بچا دیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۴۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں دعا کی۔ دعا میں بنی لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت کا ذکر آیا، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اسی کے ساتھ غفار کے لیے بخشش اور اسلم کے لیے سلامتی کا ذکر بھی آیا۔ اس روایت کا موضوع دعا، اطاعت اور قبائل کے بارے میں نبوی کلمات ہیں۔ “غفار کو اللہ بخشے” اور “اسلم کو اللہ سلامت رکھے” یہاں بھی مرکزی کی ورڈز ہیں، مگر ساتھ ہی نافرمانی کا پہلو بھی متن میں صاف موجود ہے۔ اس لیے تشریح میں دعا کے دونوں رخ، یعنی خیر اور تنبیہ، متن کے مطابق بیان ہوں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں اطاعت اور نافرمانی دونوں کے نتائج کا ذکر آ سکتا ہے۔
- غفار کے لیے مغفرت اور اسلم کے لیے سلامتی کا بیان اس روایت میں بھی ہے۔
- حدیث میں جس قبیلے کے بارے میں جو لفظ آیا ہے، اسی کو نقل کرنا چاہیے۔
