صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۴ - قبیلہ اسلم و غفار کی فضیلت
قبیلہ اسلم اور غفار کی حدیث: سلامتی اور مغفرت کی دعا
صحیح بخاری : ۳۵۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " .
ابوہریرہ روایت:
قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث قبیلہ اسلم اور غفار کی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔ اس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے دو قبائل کے لیے خیر کی دعا فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا، اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی زبان مبارک سے کسی فرد یا جماعت کے لیے دعا بڑی عزت کی بات ہے۔ یہاں قبیلہ اسلم کے لیے سلامتی کا ذکر ہے، اور قبیلہ غفار کے لیے مغفرت کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں قبائل کی فضیلت، دعا کی قدر، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان مختصر مگر بہت صاف الفاظ میں آیا ہے۔ ہمیں اس حدیث سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ خیر کی بات کو واضح اور اچھے انداز میں بیان کرنا سنت کے مزاج کے قریب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے قبیلہ اسلم کے لیے سلامتی کی دعا فرمائی۔
- قبیلہ غفار کے لیے مغفرت کا ذکر اس حدیث میں صاف الفاظ میں آیا ہے۔
- کسی قوم یا جماعت کے لیے خیر کی دعا کرنا اچھی بات ہے۔
- حدیث میں بات مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی مطلب لیا جائے جو متن میں موجود ہے۔
