صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۳ - قبیلہ غفار اور اسلم کے لیے دعا
غفار، اسلم اور عصیہ کی حدیث: اطاعت اور نافرمانی کا واضح سبق
صحیح بخاری : ۳۵۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى الْمِنْبَرِ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۳ کا خلاصہ
یہ حدیث قبیلوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرمائے گئے مختصر مگر صاف کلمات بیان کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ غفار کے بارے میں فرمایا کہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، اور قبیلہ اسلم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ نے اسے سلامت رکھا۔ اسی حدیث میں قبیلہ عصیہ کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع قبیلوں کا ذکر، دعا، مغفرت، سلامتی اور نافرمانی ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ صحیح بخاری حدیث 3513 ہمیں بتاتی ہے کہ اچھا یا برا ذکر نسبت، نام یا قبیلے سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ساتھ تعلق سے بنتا ہے۔ غفار اسلم عصیہ حدیث میں ایک طرف خیر کا ذکر ہے اور دوسری طرف نافرمانی سے بچنے کی تنبیہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بعض قبائل کا نام لے کر ان کے بارے میں بات فرمائی۔
- قبیلہ غفار کے لیے مغفرت اور قبیلہ اسلم کے لیے سلامتی کا ذکر آیا۔
- قبیلہ عصیہ کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا بیان آیا۔
- حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بہت اہم ہے۔
