صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۶ - اللہ کے نزدیک قبائل کی فضیلت
فضائل قبائل کی حدیث: اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کی فضیلت
صحیح بخاری : ۳۵۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۶
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ : " أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ ، قَالَ : شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ أَوْ ، قَالَ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا (بیان کیا کہ) جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۶ کا خلاصہ
یہ حدیث فضائل قبائل کے موضوع سے متعلق ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک، یا قیامت کے دن، اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ کسی قوم یا قبیلے کی اصل قدر اللہ کے ہاں ہے، نہ کہ صرف دنیاوی نام، شہرت یا نسب سے۔ روایت کے الفاظ میں راوی نے جہاں شک تھا وہاں احتیاط کے ساتھ “یا کہا” کے الفاظ نقل کیے، اس سے حدیث بیان کرنے میں امانت داری بھی سمجھ آتی ہے۔ اس حدیث کو تلاش کرنے والے عموماً “اسلم غفار مزینہ جہینہ حدیث”، “فضائل قبائل حدیث” اور “قبائل کی فضیلت حدیث” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے وقت اصل بات یہی سامنے رہتی ہے کہ اللہ کے نزدیک بہتر ہونا ہی حقیقی عزت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے نزدیک کسی گروہ کی قدر خاص ہو سکتی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں چند قبائل کے بارے میں بیان ہوا۔
- قیامت کے دن کی فضیلت کا معاملہ اللہ کے علم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پر مبنی ہے۔
- حدیث بیان کرتے وقت راوی کا شک بھی صاف الفاظ میں نقل کیا گیا، یہ روایت میں احتیاط کی مثال ہے۔
- نسب یا قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے وہی بات کہنی چاہیے جو معتبر نص میں آئی ہو۔
