صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۷ - دین کو نہ پہچاننے والوں کا ذکر
دین کی پہچان کی حدیث: صرف نام کافی نہیں
صحیح بخاری : ۶۰۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِينِنَا شَيْئًا " قَالَ اللَّيْثُ : كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِينَ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں۔“ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گمان کرتا ہوں فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے۔ روایت میں لیث بن سعد کا قول بھی آیا ہے کہ وہ دونوں آدمی منافق تھے۔ اس حدیث کا اصل سبق دین کی پہچان اور دینی سمجھ سے متعلق ہے۔ یہاں عام بدگمانی کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص افراد کے بارے میں ایک بات فرمائی۔ اس لیے اس روایت کو لوگوں پر عام الزام لگانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آسان بات یہ ہے کہ دین صرف ظاہری نسبت کا نام نہیں؛ اصل قدر یہ ہے کہ انسان دین کو پہچانے، اس کی بات سمجھے، اور اپنے رویے میں سنجیدگی رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی نسبت کے ساتھ دین کی سمجھ بھی ضروری ہے۔
- خاص واقعے کو عام لوگوں پر الزام لگانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- منافقانہ رویے سے بچنے کے لیے دین کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
