صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۸ - ہمارے دین کو نہ پہچاننے والوں کا بیان
دین کی پہچان: ہمارے دین کو سمجھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۰۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بِهَذَا ، وَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ دِينَنَا الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ " .
عائشہ روایت:
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا عائشہ میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ ہم جس دین پر ہیں اس کو نہیں پہچانتے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ عائشہ! میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ اس دین کو نہیں پہچانتے جس پر ہم ہیں۔ یہ حدیث دینی پہچان، دین کی سمجھ اور ظاہری دعوے کے فرق کو سامنے لاتی ہے۔ اس میں کسی عام مسلمان کے بارے میں بدگمانی کرنے کا حکم نہیں، بلکہ ایک خاص بات نقل ہوئی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ اس لیے اس کا سیدھا سبق یہ ہے کہ انسان اپنے دین کو صرف نام کی حد تک نہ رکھے۔ دین کو پہچاننا، اس کی بات سمجھنا اور سنجیدگی سے اس پر قائم رہنا اصل مقصد ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کو پہچاننا صرف زبانی دعوے سے بڑھ کر چیز ہے۔
- خاص روایت کو عام بدگمانی کے لیے دلیل نہیں بنانا چاہیے۔
- مسلمان کو اپنے دین کی بنیادی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
