صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۹ - گناہ کو کھلم کھلا بیان نہ کرنے کی حدیث
گناہ چھپانے کی حدیث: کھلم کھلا گناہ بیان نہ کریں
صحیح بخاری : ۶۰۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولَ : يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ " .
سالم بن عبداللہ روایت:
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی (گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف بات فرمائی کہ میری امت کو معاف کیا جائے گا، مگر کھلم کھلا گناہ کرنے والوں کا معاملہ الگ ہے۔ حدیث میں مثال دی گئی کہ کوئی شخص رات کو برا کام کرے، اللہ اس کا گناہ چھپا دے، مگر صبح وہ خود لوگوں سے کہے کہ میں نے رات فلاں برا کام کیا تھا۔ یہی اپنے اوپر اللہ کا پردہ کھولنا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع گناہ کی تشہیر، پردہ پوشی اور توبہ ہے۔ اگر انسان سے غلطی ہو جائے تو اسے لوگوں میں فخر یا مذاق کے انداز میں بیان نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث کا سبق یہ ہے کہ گناہ کو عام بات نہ بنایا جائے، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے اور اپنی اصلاح کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گناہ کو فخر یا مذاق کے طور پر بیان کرنا خطرناک رویہ ہے۔
- اللہ کی پردہ پوشی کو خود لوگوں کے سامنے نہیں کھولنا چاہیے۔
- غلطی ہو جائے تو اسے عام کرنے کے بجائے اصلاح اور توبہ کی طرف آنا چاہیے۔
